SHEIKH AL-KABISI EXPLAINS GREAT AHLE SUNNAH AALIM THE ROOT CAUSE OF ALL TROUBLE IN ISLAM TODAY Apr 7, ’12 1:57 PM
for everyone
The very well known Aalim e Ahle Suunah in a television speech explained the root cause of all the prevailing problems and  troubles in Islam is due to Moaviah (LA) and his father Abu sufiyan (LA) An extract of his Television speech on a Dubai Television Channel is given below (in Urdu) and he has suggested how to come out of this very un solvable like situation, simply ye following Hazrat Ali Ibne Abi Talib (a s) He said ” Tread on the path of Ali , so that you are treated along with him on the day of judgement” He is like most of the Shia -Sunni Ulemah are , very much for the Unity between the Shia -Sunni factions of Islam so that the Wahabi-Salafi -Zionist design to destry Islam is defeated. 

شیخ الکبیسی نے واضح کیا کہ مسمانوں کی تمام مشکلات اور دشواریوں کی جڑ معاویہ اور اس کا باپ ابوسفیان، ہیں۔


اہل سنت کے مفتی:  مسلمانوں کی تمام بدبختیوں کی جڑ معاویہ اور ابو سفیان ہیں

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اہل سنت کے بزرگ فقیہ و مفتی شیخ احمد الکبیسی نے “دبی 1” ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے مسلمانوں کے تمام مسائل اور بدبختیوں کی بنیاد معاویہ اور اس کا باپ ابوسفیان ہیں۔
انھوں نے کہا: وہابی ایسے حال میں معاویہ سے محبت کے نعرے لگا رہے ہیں کہ معاویہ نے علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) پر، منابر کے اوپر، سبّ و لعن کا حکم دیا تھا۔
بزرگ مفتی نے کہا: میں پورے وجود سے قسم کھاتا ہوں کہ امت اسلامی کو درپیش تمام مشکلات کی جڑ معاویہ اور اس کے باپ ابو سفیان ہیں۔
انھوں نے اس مکالمے میں عالم اسلام اور مسلم امہ کے مؤثر تحفظ کے لئے شیعہ سنی برابری اور اتحاد پر زور دیا۔
ٹی وی اناؤنسر نے پوچھا: آپ کی رائے میں ہمیں معاویہ کی پیروی کرنی چاہئے یا علی ابن ابیطالب کی؟ تو انھوں نے جواب دیا:
علی کے پیروکار بنو تا کہ قیامت کے دن ان کے ساتھ محشور ہوجاؤ۔

علامہ الکبیسی کا ویڈیو لنک ملاحظہ فرمائیں:

علی کے پیروکار بنو تا کہ قیامت کے دن ان کے ساتھ محشور ہوجاؤ۔

انھوں نے معاویہ کو خلافت کا غاصب قرار دیا جبکہ دبی کے ایک تشہیری مرکز “مؤسسۃالاعلام لدبي” نے اماراتی وہابیوں کے دباؤ کے تحت ان کے موقف سے برائت کا اظہار کرتے ہوئے ان پر “صحابہ” پر حملے کا الزام لگایا۔ 


Advertisements